عشق لامکاں

ناول : عشقِ لامکاں
حصہ : سوئم
تحریر : عبداللہ

امامہ کے کلاسز شروع ہوچکے تھے وہ بریک کے وقت میں باہر لان میں اپنے ساتھ بیٹھی ہوئی صنوبر سے کچھ بات کرنے میں مصروف تھی وہ نیلے کلر کے ڈریس میں انتہائی خوبصورت دکھائی دے رہی تھی اُس کے بالوں میں انتہائی قیمتی غیر ملکی برانڈ کے سن گلاسیز اِس انداز سے رکھے ہوئے تھے جیسے وہ اپنی کالی سیاہ آنکھوں کو سورج کی روشنی سے منور کرنے کیلئے اُن کو اُتار چکی ہو صنوبر اُس کے ساتھ آج کے لیکچر کے بارے میں کچھ ڈسکس کر رہی تھی وہ اسلام آباد کے ایک انتہائی مہنگے کالج میں زیر تعلیم تھی اُس کا گھر لاہور میں تھا لیکن یہ اُس کی ضِد تھی کے وہ یہاں ہاسٹل میں رہنا چاہتی تھی اُس کے ابو نے امامہ کے ضِد کے سامنے اپنے ہتھیار ڈال رکھے تھے وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھی اُس کے دو بھائی اور ایک بہن تھی جن میں ایک بھائی اور ایک بہن کی شادی ہو چکی تھی دوسرا بھائی لندن میں اپنی ڈگری حاصل کرنے کیلئے وہاں ہی رہ رہا تھا اس کی فیملی بیک گراؤنڈ بہت مظبوط تھا کیونکہ اس کے ابو ایک غیر ملکی آرگنائزیشن سے جُڑا ہوا تھا جہاں دولت کی انتہائی ریل پیل تھی اُس کے کام کے معیار کو امامہ خوب جانتی تھی شاید یہی وجہ تھی کے یہاں ہاسٹل میں ہی خوش تھی۔

تم کو آج کا لیکچر کیسا لگا؟
صنوبر نے اُس سے سوال کیا اور وہ چونک کر اُس کی طرف خالی الذہنی کی سی کیفیت میں دیکھنے لگی
صنوبرنے اپنا سوال پھر سے دہرایا
اچھا تھا لیکن کچھ خاص نہیں امامہ نے جواب دیا
کیوں کیا خرابی تھی؟ صنوبر نے پھر سوال کیا
نہیں کچھ خرابی نہیں شاید مجھے ہی اچھا نہ لگا ہو امامہ نے جلدی سے جواب دیا
تمھیں پتہ ہے کل انیلہ کی منگنی ہو رہی ہے! مجھے کل ہی انیلہ نے فون کرکے بتایا شاید وہ اسی وجہ سے کچھ دنوں سے کالج سے غائب ہے صنوبر نے اسے بتایا
چلو اچھی بات ہے کم از کم اُس کی دِلی خواہش تو پوری ہو گئی امامہ نے اُس کی طرف دیکھے بغیر کہا
ارے نہیں خواہش تو ادھوری ہی رہ گئی بیچاری کی! صنوبر نے برجستہ کہا
کیوں کیا اب وہ اُسے ناپسند کرنے لگی ہے کیا؟ امامہ نے سوالیہ انداز سے کہا
نہیں وہ تو اس کے بغیر جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتی لیکن اُس کے امی راضی نہیں اُس کی پسند پر!
صنوبر نے بتایا

کیوں؟ کیا انیلہ کو اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کا حق حاصل نہیں؟ امامہ نے قدرے غصیلے لہجے میں صنوبر سے پوچھا!
یہ تو مجھے نہیں معلوم لیکن اتنا پتہ چلا ہے کے انیلہ کے گھر والے لڑکیوں کو کچھ زیادہ آزادی دینے کے حق میں نہیں خاص کر اس کی امی! صنوبر نے جواب دیا
تو اس کا مطلب پھر یہ ہوا کے چاہے انیلہ کی ساری زندگی ہی عذاب میں کٹ جائے اُس کا کسی کو کوئی پرواہ ہی نہیں؟ امامہ نے پھر اُسی انداز سے سوال کیا!

اُس کی تقدیر! صنوبر نے اُداس لہجے میں ایک طویل سانس لے کر صرف اتنا ہی کہا
صنوبر میں تم سے ایک سوال پوچھوں؟ امامہ نے قدرے توقف کے بعد کہا
کیسا سوال صنوبر نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا!
یہی کے۔۔۔۔ اتنے میں صنوبر کے موبائل پر کوئی الارم گنگنانے لگا اور امامہ کچھ کہتے کہتے رک گئی
ہاں پوچھو نہ! صنوبر نے سوالیہ انداز سے اُس کی طرف دیکھا
نہیں ہاسٹل میں پوچھ لوں گی ابھی چلو لیکچر کا وقت ہو گیا! وہ دونوں وہاں سے اٹھی اور اپنے کلاس کی طرف جانے لگی
صنوبر امامہ کے اس سوال کے بارے میں سوچتی گئی جو ضرور کوئی نہ کوئی معانی رکھتا ہوگا لیکن کیا؟
جاری ہے۔۔۔۔۔

عشق لامکاں

ناول : عشقِ لامکاں
حصہ : دوم
تحریر : عبداللہ

آج سارا دن اُس کے ذہن و حواس پر وہی لمحات ایک آسیب کی طرح سوار رہے جب جب بھی وہ اپنے اُن پرانے لمحات کو یاد کرتا رہتا اُس کی شخصیت اُنہی ویرانوں میں گُم ہوجاتی جِن سے اب فرار حاصل کرنا سالار کے لئے ناممکن سا ہو چکا تھا وہ اُس کی روح کو جھنجوڑ رہے تھے شاید اُس کی ضمیر کی آواز اُسے اُن لمحوں سے چھٹکارہ دِلانے کے لئے راضی نہیں تھی
کالج سے واپسی پر وہ اپنے سپورٹس کار کو مال روڈ پر بے دھانی سے ڈرائیو کرتا ہوا اپنے گھر کی طرف رواں دواں تھا اُس کا گھر ڈیفنس جیسے پوش علاقے میں تھا جہاں کی سوسائٹی میں سب ہی امیر کبیر لوگ رہا کرتے تھے۔ گھر پہنچتے ہی وہ اپنے کمرے کی طرف چل پڑا هال میں موجود اُس کی ماں رضیہ بیگم اور بہن علینہ بیٹھی ہوئی تھیں وہ اُن کو نظر انداز کرتا ہوا اپنے کمرے میں داخل ہوا اور دروازے کو لاک لگا کر بیڈ پر اُوندھے منہ گرنے کے انداز میں لیٹ گیا۔ اُس کا کمرہ بھی وہی تصویر پیش کر رہا تھا جو ایک ہائی سوسائٹی کے نوجوانوں کا خاصہ ہوا کرتا ہے مغرب زدہ مغربی ماحول سے متاثر۔۔۔۔
دیواروں پر انگلش لیڈی سنگرز کی انتہائی شوخ اور کسی حد تک متنازعہ تصاویروں کے بڑے بڑے پوسٹرز لگے ہوئے تھے جو کے ایسے انداز میں وہاں پر سیٹ کئے گئے تھے کے کوئی بھی مشرقی اقدار کا پاس رکھنے والا اُن کی طرف دیکھنا گوارا نہ کرتا کمرے کے ایک دیوار کے ساتھ خوبصورت اور کسی حد تک جدید ترین میوزک سسٹم رکھا ہوا تھا اور اس کے ساتھ ہی بہت سے نئے انگلش گانوں کے کیسٹس پڑے ہوئے تھے کمرے میں بیڈ کے دائیں طرف ایک کھڑکی باہر کی طرف تھی جس سے باہر بنگلوں کے دراز قد عمارتیں نظر آرہی تھی اُس کھڑکی کے سامنے ہی ایک خوبصورت بنگلہ تھا جس کی عمارت اور آرائش ہی اس کے مکینوں کے خوش باش اور کافی حد تک مالدار ہونا صاف ظاہر کر تھا۔
ویسے بھی اِس علاقے میں رہائش اختیار کرنا ہر کسی کے بس کا کام نہیں تھا وہاں کی سوسائٹی انتہائی حد تک مالدار خاندانوں سے تعلق رکھتی تھی۔
سالار کو اوندھے منہ لیٹے ہوئے کافی وقت گزر چکا تھا شاید وہ اِسی حالت میں سو گیا تھا شام کے اندھیرے نے نیلے آسمان کو آہستہ آہستہ آپنے بازووں میں لینا شروع کردیا تھا یہاں تک کے باہر مکمل رات اُمڈ آئی اور اُس کے کمرے میں گھٹا ٹوپ اندھیرا چھا گیا لیکن اُس کی وہ پوزیشن اب بھی وہی تھی شاید اُس کے ذہنی کیفیت ہی کچھ اس طرح سے ہو گئی تھی جس نے اسے ہر ایک ماحول سے بیگانہ رکھا ہوا تھا۔ اُس کا اِس انجام کو پہنچ جانا اُسی کے قول و فعل تھے یا شاید اس کو یہی کچھ سہنا تھا۔۔۔

عشقِ لامکاں

ناول : عشقِ لامکاں
حصہ : اول
تحریر : عبداللہ

سالار حیات کی غزالی آنکھوں میں اُداسی سی چھائی ہوئی تھی اُس کے سامنے میز پر رکھے کافی کے دو خالی کپ رکھے ہوئے تھے وہ مسلسل سُوچوں میں گُم سُم سا بیٹھا ہوا اِس جہاں کا نہیں لگ رہا تھا شاید اُس کے لاشعور میں کوئی کشمکش اُسے پریشان کئے ہوئے تھی کہ اچانک اُس کو کسی نے جھنجوڑ کر خیالی دنیا سے یک لخت نکال کر حقیقی تلخ دنیا میں پٹخا دیا وہ ریحان تھا جو اُس کے بچپن کا ساتھی تھا وہ دونوں ساتھ پل بڑھ کر جوان ہوئے تھے اور ایک دوسرے کے ہر ایک راز میں شریک تھے لیکن ریحان کی فیملی اس کی فیملی کی طرح شاہانہ صفت نہ تھی بلکہ وہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے پھر بھی اِس نے اُس کی دوستی پر کوئی آنچ اْنے نہیں دیا تھا
وہ اُس کو واپس کلاس میں جانے کا کہہ رہا تھا جہاں پر پروفیسر رشید احمد صدیقی کا ایک لیکچر شروع ہونے والا تھا وہ بوجھل قدموں سے چلتا ہوا کلاس روم جا پہنچا اور اپنی سیٹ پر گِرنے کے انداز میں بیٹھ گیا اس کی سوچوں کی پرواز کلاس روم میں داخل ہوتے ہی پھر اُسی جانِب ہو چُکی تھی
لیکچر کے اختتام تک اس کی ذہنی کیفیت اس ٹیلی پیتھی والے عامل جیسے ہوچکی تھی جو کسی شمع کو مسلسل گھورتا جاتا ہے اور اس کی آگ کی تپش سے اپنے دل و جگر کو جلاتا رہتا ہے
وہ اپنی کلاس میں سب سے ذہین سٹوڈنٹ مانا جاتا تھا اور اس کے اس قابلیت پر سب متفق تھے اس کے بنائے ہوئے نوٹس میں کوئی غلطی ڈھونڈ نکالنا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا سپورٹس میں اس کی مِثال الگ تھی وہ ہر لحاظ سے قابلِ رشک شخصیت کا مالک تھا۔
اس کا خاندان لاہور شہر کا جانا مانا کاروباری پہچان کا مالک تھا اس کے باپ دادا کے مراسِم شہر کے اعلی شخصیت سے بہت قریب کے تھے اُس کی زندگی بھی اُن امیر زادوں کی سی گزر رہی تھی جو منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوتے ہیں
اُس کا حلقہ احباب صرف ریحان تک ہی محدود نہ تھا تین چار اور بھی ایسے دوست تھے جو حقیقی معنوں میں زندگی کو ایک الگ نظر سے دیکھنے کے عادی تھے اور سالار بھی ان کے اُس رنگ کا ایک حصہ تھا اور اُس رنگ کی رنگینی شھر کے ریڈ لائٹ ایریا میں وقت گزارنے کے دوران صحیح معنوں میں سامنے پیش ہو جاتی اور ان کے حرکات اس بات کا چیخ چیخ کر یہ گواہی دیتے رہتے کہ وہ اس رنگ و نور میں ڈوبے ہوئے ماحول کے کتنے عادی ہوچکے ہیں